مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اسلامی جمہوریہ ایران کی پولیس فورس کے کمانڈروں کے ساتھ منعقدہ قومی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انقلابِ اسلامی کے بانیِ کبیر، انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر اور ملک کی سلامتی و خودمختاری کی راہ میں شہید ہونے والے تمام شہداء، بالخصوص پولیس کے شہداء کی پاکیزہ ارواح کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ہم آپ کی جانب سے ملک کی سلامتی کے دفاع میں شب و روز کی جانے والی جدوجہد اور کوششوں کو سراہنے کے لیے اس اجتماع میں حاضر ہوئے ہیں۔
ایرانی صدر نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے اس فرمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جس میں فوجی دستوں کو حکومت کی زینت، مضبوط قلعہ اور عزت و سربلندی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے، کہا کہ آپ نے عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ آپ ملک کی زینت بھی رہے ہیں، اس کا مضبوط قلعہ بھی اور آپ نے عزت و سربلندی بھی پیدا کی ہے۔
ڈاکٹر پزشکیان نے ملک پر فوجی حملے کے بعد دشمن کی جانب سے بدامنی پیدا کرنے کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن نے فوجی حملے کے بعد ملک کو بدامنی کی جانب دھکیلنے کی کوشش کی، لیکن آپ نے شب و روز کی کوششوں کے ذریعے ملک کے وجود اور وقار کا دفاع کیا، دشمن کی سازش کو ناکام بنایا اور اسے مایوس کر دیا اور یہ جدوجہد قابلِ قدر ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ دشمن کا خیال تھا کہ رہبر اور کمانڈروں کی شہادت اور سکیورٹی و انتظامی مراکز کو نشانہ بنا کر وہ ملک کے اندر بدامنی پیدا کرنے کے اپنے مقاصد حاصل کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے حملہ کیا، لیکن آپ مجاہدانہ انداز میں ڈٹے رہے، عوام میدان میں آئے اور ایران سربلند ہوا۔
ڈاکٹر پزشکیان نے حالیہ جنگ کے دوران پولیس کی تباہ شدہ عمارتوں کے اپنے دورے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان حملوں کو امریکہ اور صیہونی حکومت کی وحشیانہ فطرت کی واضح علامت قرار دیا اور کہا کہ جو لوگ انسانی حقوق کا دعویٰ کرتے ہیں، عملی طور پر ان کے لیے طاقت اور دھونس کے سوا کوئی چیز اہمیت نہیں رکھتی۔
ایرانی صدر نے حالیہ واقعات کے بعد دنیا کے بہت سے ممالک کے ایران کے بارے میں بدلتے ہوئے نقطۂ نظر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج بہت سے ممالک کے سربراہان جب ہم سے ملاقات کرتے ہیں تو ایران کو ایک مختلف نظر سے دیکھتے ہیں اور خطے کے کسی بھی ملک نے یہ تصور نہیں کیا تھا کہ ایران اس طرح کے وحشیانہ حملے کے مقابلے میں ثابت قدم رہ سکے گا۔
ڈاکٹر پزشکیان نے ایرانی عوام اور پولیس فورس اور امن و امان کے قیام کے لیے کردار ادا کرنے والی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ عوامی یکجہتی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سات ماہ سے زائد عرصے سے عوام سڑکوں پر موجود ہیں اور آپ کے ساتھ مل کر ملک کی سلامتی اور اقدار کا دفاع کر رہے ہیں۔ وہ عوام بھی قابلِ قدر ہیں جنہوں نے تمام مشکلات اور شکایات کے باوجود دشمن کا ساتھ نہیں دیا اور ایران کے ساتھ کھڑے رہے۔
ایرانی صدر نے دشمن کی جانب سے ملک کے خلاف مسلط کی گئی شدید اقتصادی جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہم پر ہر وہ دباؤ اور پابندی عائد کی جو وہ عائد کر سکتے تھے، تاکہ ہم اپنے عوام کی خدمت نہ کر سکیں، لیکن ہم پوری قوت کے ساتھ عوام کی خدمت کرنے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ جب تک ہمارے ساتھ عوام موجود ہیں، ہمیں کسی خطرے اور دشمن سے خوف نہیں۔ عوام کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ہم ان پر حکومت کرنے نہیں آئے، بلکہ ان کی خدمت کرنے آئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ